اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی رجیم نے اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے شمالی غزہ میں مکانات اور زرعی زمینوں کو مسمار کرنا جاری رکھا ہوا ہے، جس کا مقصد بظاہر علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنا اور دو دہائیوں کے بعد یہودی بستیوں کو دوبارہ آباد کرنا ہے۔
الجزیرہ کے ایک پیر کے روز شائع شدہ رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیا گیا، جس کا تجزیہ الجزیرہ کے ڈیجیٹل انویسٹی گیشن یونٹ نے کیا۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ اسرائیل نے بیت حانون کے شہر میں جنگ بندی کے بعد ہفتوں کے دوران مکانات کے ملبے کو منظم طریقے سے ہٹا دیا ہے۔
یہ شواہد اسرائیل کی اس نیت کی تصدیق کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں کہ وہ دو سالہ جنگ کے بعد غزہ کے کچھ حصوں پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتا ہے، جس میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور 70,000 سے زیادہ افراد شہید ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق، 8 اکتوبر سے 8 جنوری کے درمیان، اسرائیلی بلڈوزرز نے بیت حانون میں تقریباً 408,000 مربع میٹر (4.39 ملین مربع فٹ) زمین ہموار کی، جس میں جنگ کے دوران تباہ ہونے والے کم از کم 329 مکانات اور زرعی زمینیں شامل ہیں۔
تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کارروائی سے پہلے شہر میں جنگ سے متاثرہ عمارتیں اور کچھ محفوظ رہ جانے والی عمارتیں بھی موجود تھیں۔
الجزیرہ نے اشارہ دیا کہ بیت حانون میں یہ صفائی کی کارروائی ممکنہ طور پر علاقے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کے قیام کی تیاری ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، غزہ میں تقریباً 81 فیصد عمارتیں اسرائیل کی کارروائیوں سے تباہ یا نقصان زدہ ہو چکی ہیں۔ شمالی غزہ میں تباہی خاص طور پر زیادہ رہی ہے، جبکہ انتہا پسند اسرائیلی سیاستدان بار بار یہ اعلان کر چکے ہیں کہ علاقے میں یہودی بستیوں کی دوبارہ آبادکاری کا منصوبہ ہے۔
اسرائیلی وزیر جنگ اسریل کیتز نے اعلان کیا ہے کہ "اسرائیل کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور کبھی غزہ چھوڑے گا نہیں"، اور شمالی علاقے میں زرعی و عسکری اڈے قائم کرنے کا عندیہ دیا۔ کیتز کے مطابق یہ اڈے 2005 میں غزہ سے ہٹائی جانے والی یہودی بستیوں کی جگہ قائم کیے جائیں گے۔
آپ کا تبصرہ